اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کولمبیا میں اقوام متحدہ کے تصدیقی مشن کی مدت میں ایک سال کی توسیع کردی ہے۔ کونسل نے قرارداد 2833 (2026) متفقہ طور پر منظور کی۔
قرارداد کے تحت مشن کی نئی مدت 31 اکتوبر 2027 تک ہوگی۔ مشن کی بنیادی ذمہ داری کولمبیا کے حتمی امن معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور تصدیق میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
یہ معاہدہ 2016 میں کولمبیا کی حکومت اور انقلابی مسلح افواجِ کولمبیا (FARC-EP) کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک کی سب سے بڑی مسلح بغاوت کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔
کولمبیا میں مسلح تنازع کی بنیادی وجوہات میں سیاسی محرومی اور زمین کی غیر مساوی تقسیم شامل تھیں۔ یہ تنازع پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔
اس دوران گوریلا گروہوں، نیم فوجی تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں نے تشدد میں حصہ لیا۔ اس طویل تنازع کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہوئے۔
2016 کے تاریخی امن معاہدے میں کئی اہم اقدامات شامل تھے۔ ان میں جنگجوؤں کا اسلحہ چھوڑنا اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ دیہی اصلاحات، سیاسی شرکت اور عبوری انصاف کے اقدامات بھی معاہدے کا حصہ تھے۔
کولمبیا کی نئی حکومت نے امن معاہدے پر عمل درآمد کے آخری پانچ سالوں میں مشن کی ترجیحات تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ مشن سابق جنگجوؤں کی دوبارہ آبادکاری اور ان کے تحفظ پر توجہ دے۔
اس تجویز کے تحت دیہی اصلاحات کی نگرانی کا دائرہ ختم کیا جائے گا۔ کولمبیا کا مؤقف ہے کہ یہ ذمہ داری بنیادی طور پر قومی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ حکومت کے مطابق، یہ مشن کے بنیادی مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہونی چاہیے۔ سلامتی کونسل کی نئی قرارداد میں دیہی اصلاحات کی نگرانی کی ذمہ داری ختم کردی گئی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے قرارداد کے حق میں ووٹ کی وضاحت کی۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے 15 رکنی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مثبت ووٹ کولمبیا اور اس کے عوام کی دیرینہ حمایت کا عکاس ہے۔

