پی ٹی آئی کا پُرتشدد احتجاج،ایک پولیس کانسٹیبل شہید،عظمی بخاری

0

پاکستان تحریک انصاف کے 24 نومبر کا احتجاج تشدد میں تبدیل ہو گیا،، پنجاب کی وزیر اطلاعات عطمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہرین کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہو گیا ہے،،

مظفرگڑھ کا رہائشی پولیس کانسٹیبل مبشر شاہ جمال لاہور کے پولیس اسٹیشن میں تعینات تھا،، پی ٹی آئی کے احتجاج پر مبشر کی ڈیوٹی ہکلا انٹرچینج پر لگی تھی،، پی ٹی آئی کے پُرتشدد کارکنوں نے مبشر کو شدید زدوکوب کیا اور اس پر تشدد کیا جس کے باعث پولیس کانسٹیبل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دوران علاج شہید ہو گیا،،

46 سالہ مبشر کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے،، کئی گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد پولیس کانسٹیبل ڈی ایچ کیو راوالپنڈی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا،،

عظمیٰ بخاری نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے تشدد سے 5 اہلکاروں کی حالت تشویشناک ہے جو اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،،

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو گردن اور ٹانگوں پر گولیاں ماری گئیں، گولیاں مارنے والے یوتھ فورس کے لوگ ہیں جنہیں باہرسے لایا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سروں کو ٹارگٹ کرنا طالبان کا طریقہ کار ہے، ہمارے بچے اتنے سنگدل نہیں کہ پولیس کو ماریں۔

وزیر اطلاعات  پنجاب نے کہا کہ پولیس والوں کو بھی بندوق پکڑا دی جائے تو دیکھتی ہوں یہ کیسے مقابلہ کرتے ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کا ایجنڈا ہے ریاست گولی چلائے اور انہیں لاشیں ملیں، یہ کل بھی دہشت گرد تھے اور آج بھی دہشت گرد ہیں، بانی پی ٹی آئی کے ہوتے ملک کا بھلا نہیں ہوسکتا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی 9 مئی پارٹ 2 چاہتی ہے۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایک طرف ریاست پر یہ لوگ حملہ آور ہورہے ہیں اور دوسری طرف یہ چاہتے ہیں کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں، بشریٰ بی بی احتجاج کو اسلامی ٹچ دے رہی ہیں۔

وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ بشریٰ بی بی کو سیاست میں خوش آمدید کہتے ہیں، کھل کر کھیلیں ہمیں بھی کھیلنے کا مزہ آئے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست کبھی بھی کمزور نہیں ہوتی، ہم رد عمل دے سکتے ہیں لیکن یہ جماعت یہی چاہتی ہے کہ حالات خراب ہوں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.