Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
جمعہ, اکتوبر 16
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»ملٹی میڈیا»یوٹیوب نے مونیٹائزیشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کر دی، اب 4 نہیں 8 ہزار گھنٹے واچ ٹائم حاصل کرنا ہوگا
ملٹی میڈیا

یوٹیوب نے مونیٹائزیشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کر دی، اب 4 نہیں 8 ہزار گھنٹے واچ ٹائم حاصل کرنا ہوگا

EditorBy Editorاگست 11, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ بننے والے یوٹیوب نے مونیٹائزیشن کے لیے درکار اہداف مزید سخت کردیئے ہیں، نئی شرائط کے تحت نئے تخلیق کاروں کو پارٹنر پروگرام میں شمولیت کے لیے پہلے سے زیادہ واچ ٹائم اور ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔

یوٹیوب پارٹنر پروگرام میں شامل ہونے کے بعد تخلیق کار اشتہارات، چینل ممبرشپ، سپر چیٹ اور مرچنڈائز سمیت مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل کرسکتے ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق طویل ویڈیوز کے ذریعے مونیٹائزیشن کے خواہشمند صارفین کے لیے گزشتہ 12 ماہ میں مطلوبہ واچ ٹائم 4 ہزار گھنٹے سے بڑھا کر 8 ہزار گھنٹے کردیا گیا ہے، جبکہ سبسکرائبرز کی کم از کم تعداد ایک ہزار برقرار رہے گی۔

شارٹس کے ذریعے مونیٹائزیشن کے لیے بھی ہدف دگنا کردیا گیا ہے۔ اب نئے صارفین کو گزشتہ 90 دن میں 2 کروڑ سے زائد شارٹس ویوز حاصل کرنا ہوں گے، جبکہ پہلے یہ حد ایک کروڑ ویوز تھی۔

یوٹیوب کے مطابق نئی شرائط کا اطلاق یکم فروری 2027 سے ہوگا، تاہم جو صارفین پہلے ہی یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ ہیں، ان پر اس تبدیلی کا براہ راست اطلاق نہیں ہوگا۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پارٹنر پروگرام میں شامل رہنے کے لیے شارٹس کریئیٹرز کو 90 دن کے دوران ایک کروڑ ویوز کی حد برقرار رکھنا ہوگی۔ ہدف پورا نہ ہونے کی صورت میں صارف پارٹنر پروگرام میں شامل رہ سکے گا اور طویل ویڈیوز سے آمدنی حاصل کرتا رہے گا، تاہم شارٹس سے دوبارہ کمائی شروع کرنے کے لیے اسے 90 دن میں ایک کروڑ ویوز حاصل کرنا ہوں گے۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد پلیٹ فارم پر تیزی سے بڑھتی سرگرمیوں کے ساتھ رفتار برقرار رکھنا ہے۔ کمپنی کے مطابق یوٹیوب پر روزانہ 200 ارب سے زیادہ شارٹس ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں، جبکہ صرف ٹی وی اسکرینز پر صارفین روزانہ تقریباً ایک ارب گھنٹے یوٹیوب ویڈیوز دیکھتے ہیں۔

نئی شرائط کے بعد بالخصوص شارٹس پر انحصار کرنے والے نئے تخلیق کاروں کے لیے مونیٹائزیشن حاصل کرنا اور مقررہ ویوز برقرار رکھنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    واٹس ایپ کے یوزرنیم فیچر سے کئی ممالک پریشان، خدشات کیا ہیں؟

    جولائی 23, 2026

    پہلی بار AI نے دوسری اے آئی کمپنی کو ہیک کر دیا

    جولائی 21, 2026

    میٹا نے متنازع اے آئی فیچر واپس لے لیا

    جولائی 13, 2026

    Comments are closed.

    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.