Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 17
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»پاکستان»خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ملکی مفاد میں فیصلہ کیا، اچھے نتائج نکلیں گے: وزیراعظم
پاکستان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ملکی مفاد میں فیصلہ کیا، اچھے نتائج نکلیں گے: وزیراعظم

EditorBy Editorاکتوبر 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے مرحوم بشیر محمود ورک کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مرحوم بشیر محمود ورک کے ساتھ ان کا بھائیوں جیسا تعلق تھا، وہ انتہائی شفیق انسان تھے اور سیاست کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بشیر ورک کے ساتھ ان کے قریبی اور برادرانہ تعلقات تھے اور انہوں نے پارٹی کے ارکان اور کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہمیشہ مل کر کام کیا۔

وزیراعظم کا خیبرپختونخوا کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی مجبوری کے تحت نافذ کی گئی، خیبرپختونخوا کے دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے سنجیدگی کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے، تاہم تعاون کے بجائے آئے روز لانگ مارچ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کی پیشکش کی، لیکن سیاسی محاذ آرائی کے باعث معاملات میں مشکلات پیدا ہوئیں۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کے باعث پورے پاکستان کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے، گزشتہ سال بھی سب نے تماشا دیکھا، اس بار بھی مکمل خون ریزی کا منصوبہ تھا۔

شہباز شرہف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے اور جماعت نے ہر لحاظ سے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف مل کر چلنے کا کہا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا، تاہم آخری وقت میں مسودے کو منظور کرنے سے انکار کر دیا گیا، مذاکراتی کمیٹی نے معاملے کے حل کے لیے رات بھر بیٹھ کر کوششیں کیں، لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی نے اختلافات ختم کرنے اور معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی، آخری وقت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مسودہ منظور نہیں، جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی۔

شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ اس بار مخالف فریق نے خون ریزی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، حکومت نے پاکستان کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس فیصلے کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    سان فرانسیسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی تعاون پر اتفاق

    اکتوبر 17, 2026

    بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں 27 نومبر تک توسیع

    اکتوبر 17, 2026

    برف ہٹا کر بابو سر ٹاپ سڑک کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا

    اکتوبر 17, 2026

    Comments are closed.

    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.