امریکی وزیر خارجہ کا دورہ تل ابیب۔۔۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی۔۔۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کے جوہری عزائم اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
یروشلم میں روبیو سے ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں ایران کا معاملہ سرفہرست تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا، ایران کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں ایران کی جارحیت کو ختم کیا جانا چاہیے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ’ہر دہشت گرد گروہ کے پیچھے، تشدد کی ہر کارروائی کے پیچھے، عدم استحکام پیدا کرنے والی ہر سرگرمی کے پیچھے، ہر اس چیز کے پیچھے جو اس خطے کو اپنا گھر کہتے ہیں، لاکھوں لوگوں کے امن اور استحکام کے لیے ایران خطرہ ہے۔
اسرائیل اور ایران کی دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے جو زمینی، سمندری، فضائی اور سائبر اسپیس کے ذریعے خفیہ جنگوں اور حملوں کی تاریخ پر محیط ہے۔
ایران کہتا ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے، اس ملک نے مشرق وسطیٰ میں ان گروہوں کی بھی حمایت کی ہے جو خود کو اسرائیل اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ’مزاحمت کا محور‘ قرار دیتے ہیں۔
بنجمن نیتن یاہو اور مارکو روبیو کی ملاقات پر نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
ایران کی حمایت صرف حماس کے لیے نہیں بلکہ اس فلسطینی گروپ کے لیے بھی ہے، جس نے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملہ کرکے غزہ کی جنگ کو بھڑکایا تھا، اسی طرح لبنان میں حزب اللہ تحریک، یمن میں حوثی تحریک، عراق اور شام میں مختلف شیعہ مسلم مسلح گروپوں کو بھی ایران کی حمایت حاصل ہے۔