اکوڑہ خٹک: مدرسہ حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد خود کش حملہ ، مولانا حامد الحق شہید

اکوڑہ خٹک : مدرسہ حقانیہ کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش حملے میں مولانا حامد الحق حقانی سمیت 5 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

آئی جی کے پی کا کہنا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی کو شدید تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ خود کش حملہ مسجد میں نہیں بلکہ نماز جمعہ کے بعد مدرسے میں ہوا۔چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے تصدیق کی ہے کہ مولانا حامد الحق شہید ہوگئے ہیں۔

آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خودکش ہے۔ دھماکےمیں مولاناحامدالحق کونشانہ بنایاگیا۔ 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دھماکے کی تحقیقات کررہے ہیں۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق خودکش دھماکے میں 3 افراد شہید ہوئے، جن میں مولانا حامد الحق بھی شامل ہیں۔  خودکش دھماکے کی تحقیقات شروع کردی ہے، جائے وقوع سے فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی  جب کہ امدادی ٹیموں  اور مقامی افراد نے ملبہ ہٹا کر زخمیوں کو نکالا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا خودکش  تھا۔

سینٹرل پولیس آفس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اکوڑہ خٹک دھماکا خودکش تھا۔ دھماکے میں مولانا حامد الحق زخمی ہوئے۔ حملہ آور مسجد کے ساتھ گیٹ سے داخل ہوا۔ جائے وقوع سے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لیڈی ریڈنگ اسپتال ایم ٹی آئی کے ترجمان نے بتایا کہ اکوڑہ خٹک دھماکے کے زخمیوں کی ممکنہ آمد کے پیش نظر ایل آر ایچ ایمرجنسی کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جہاں تمام عملہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے اور زخمیوں کے علاج کے لیے تیار ہے۔

مولانا حامد الحق حقانی مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے اور جے یو آئی (س) کے سربراہ تھے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے