جعفر ایکسپریس آپریشن:انڈین میڈیا،بی ایل اے اور پی ٹی آئی اس واقعہ پر ایک زبان بول رہے تھے:عطا تارڑ

وفاقی وزیر اعطلاعات عطا تارڑ کی جعفر ایکسپریس کے دلسوز سانحہ پر خصوصی گفتگو۔۔۔۔ کہا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے بلوچستان میں آپریشن منطقی انجام کو پہنچا۔۔

پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنانے والے 33 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔۔۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے 21 جانوں کا نقصان ہوا، پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوئے۔۔۔آپریشن کے دوران بہادری اور دلیری کے ساتھ پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔۔

ٹرین میں 440 افراد سوار تھے، پاک فوج، ایف سی، ایس ایس جی اور ایئر فورس نے مہارت سے اس آپریشن کو مکمل کیا۔۔۔

بھارتی میڈیا کی طرف سے بہت افسوسناک پروپیگنڈا کیا گیا۔۔۔کچھ سیاسی عناصر نے اس افسوسناک واقعہ کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا۔۔۔۔

انڈین میڈیا، بی ایل اے اور پی ٹی آئی اس واقعہ پر ایک زبان بول رہے تھے۔۔۔کاش یہ اس آپریشن کے حوالے سے مصدقہ معلومات پر بات کرتے۔۔اس سانحہ پر جو سیاست کھیلی گئی، اس کی مذمت کرتے ہیں۔۔۔جھوٹا بیانیہ بنانے پر تحریک انصاف کو شرمسار ہونا چاہئے۔۔۔

وزیراعظم نے کامیاب آپریشن پر سیکورٹی فورسز کی صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔۔۔پاکستان میں اس طرح کے واقعات کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔۔

عطا تارڑ نے کہا یرغمال مسافروں کو بازیاب کرا کے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔۔ اللہ کا شکر ہے ہم بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں۔۔

جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔۔۔

وفاقی وزیر نے کہا پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔۔۔دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف افواج پاکستان، سیکورٹی فورسز، پولیس اور رینجرز متحرک ہیں۔۔۔دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائے گا بلوچستان آپریشن انتہائی پیشہ ورانہ صلاحیت سے مکمل کیا گیا۔۔۔

وزیراعظم شہباز شریف، حکومت پاکستان، افواج پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کا دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا غیر متزلزل عزم ہے۔۔۔۔

بی ایل اے کے دہشت گردوں نے اپنے آپ کو ایکسپوز کیا، ان کی سازش ناکام ہوئی۔۔۔۔دہشت گرد کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔۔دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لئے حوصلے اور ہمت کے ساتھ تیار ہیں۔۔

وزیراعظم شہباز شریف کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے بات ہوئی ہے، کل وزیراعظم بلوچستان کا دورہ کریں گے اور تفصیل سے لائحہ عمل پر روشنی ڈالیں گے۔۔۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے