اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے الاقصیٰ نیٹ ورک کی بین الاقوامی سیٹلائٹ نشریات کی معطلی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
حماس کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے اس اقدام کا مقصد اسرائیلی مظالم کو چھپانا اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔ حماس نے اسے میڈیا کی آزادی پر حملہ اور ایک منظم سینسرشپ کی کوشش قرار دیا۔
حماس ترجمان نے بیان میں نشریات کی معطلی کو درج ذیل وجوہات سے جوڑا گیا:
✔ اسرائیلی مظالم کی رپورٹنگ روکنا – فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے جبر و تشدد کی بین الاقوامی سطح پر نشریات محدود کرنا۔
✔ غزہ کے بحران کو چھپانا – اسرائیلی کارروائیوں کے باعث درپیش انسانی بحران پر عالمی برادری کی توجہ ہٹانا۔
✔ پریس کی آزادی پر قدغن – خطے میں آزاد صحافت پر دباؤ ڈالنا اور فلسطینی میڈیا کو محدود کرنا۔
✔ فلسطینی بیانیے کا گلا گھونٹنا – اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی بین الاقوامی آوازوں کو کمزور کرنا۔
حماس نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کی مذمت کریں اور فلسطینی صحافتی آزادی کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں۔
الاقصیٰ چینل نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی اور یورپی دباؤ کے نتیجے میں اس کی نشریات معطل کی گئی ہیں، جسے فلسطینی حلقے میڈیا پر جبر اور آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
