یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ امریکا بدستور یورپ کا اتحادی ہے، تاہم دونوں فریقین کے تعلقات اب ماضی جیسے نہیں رہے۔
یورپی کمیشن کے نائب صدر نے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین آئندہ دو برسوں میں یوکرین کو ریاستی امور اور دفاعی ضروریات کے لیے 90 ارب یورو کا قرض فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف پابندیوں کے 20ویں پیکج کو اگلے ماہ حتمی شکل دینے کا ارادہ ہے۔
نائب صدر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مذاکرات کو اسی وقت سنجیدگی سے لے گا جب اسے واضح اور مضبوط پیغام دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین یوکرین کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یورپی کمیشن کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی میں تبدیلی آ رہی ہے، جبکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں یورپی یونین زیادہ خودمختار دفاعی اور سفارتی کردار ادا کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
