پاکستان کے مرکزی بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے مہنگائی جس حد تک نیچے جانی تھی چلی گئی اب آئندہ ماہ افراط زر بڑھنا شروع ہو جائے گی۔
کراچی میں فنانشل لٹریسی ویک کی ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا 2023 میں پاکستان کو دہائیوں کے بدترین معاشی بحران اور اب تک کی بلند ترین افراط زر کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 4 ارب 60 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے، جو 3 ہفتوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔
اس بحران نے حکومت کو ادائیگیوں کے توازن (بی او پی) کے بحران کی حمایت کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ حاصل کرنے پر مجبور کیا۔
گورنر جمیل احمد نے کہا 2022 میں ہم مشکل حالات میں تھے اور افراطِ زر تیزی سے بڑھ رہی تھی، ان مسائل کے باعث زرمبادلہ ذخائر 2 ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئےتھے، ہمارے ایکسچینج ریٹ 50 فیصد تک تنزلی کا شکار ہوگئے تھے، ہم نے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں ایک وسیع خلیج بھی دیکھا مگر اس کے بعد ہم نے کئی اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا ہم نے سخت پالیسی اقدامات کیے، درآمدات پر پابندی لگائی جس وجہ سےشرحِ سود بڑھانی پڑی، مارچ 2025 میں ہم نے 0.7 فیصد کی کم ترین سطح پر افراطِ زر دیکھی تاہم آئندہ ماہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ سال خسارے میں تھا تاہم اس سال سرپلس میں ہے، تمام تر صورتحال کے باوجود ہم کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس رکھنے میں کامیاب ہیں، ایکسچینج ریٹ بھی انہی پالیسی اقدامات کے باعث مستحکم ہے، انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کا فرق بھی کم ہوچکا ہے۔
جمیل احمد نے بتایا کہ بیرونی ادائیگیاں 26 ارب ڈالر ہیں جن میں سے 16 ارب رول اوور یا ری فنانس ہوں گی، بقایا 10 ارب میں سے 8 ارب کی ادائیگی کرچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی سال 25 کے اختتام تک جی ڈی پی نمو 2.5 سے 3.5 فیصد رہے گی، زرعی ترقی بہتر رہی تو معاشی نمو 4.2 فیصد تک ہوسکتی ہے۔