روس نے یوکرین پر راتوں رات بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کر دیے
اتوار کے روز یوکرین کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ روس نے رات بھر یوکرین کے مختلف علاقوں پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
Dnipropetrovsk علاقے کے گورنر سرہی لیساک کے مطابق، شہر Pavlohrad میں کم از کم ایک شہری ہلاک جبکہ ایک 14 سالہ لڑکی زخمی ہوئی۔Pavlohrad کو مسلسل تیسری رات نشانہ بنایا گیا، جب روسی افواج نے فضائی حملے تیز کر دیے۔
یوکرینی حکام نے اطلاع دی ہے کہ روس کی جانب سے تقریباً 150 ڈرونز یوکرین کی فضائی حدود میں بھیجے گئے، جو حالیہ مہینوں میں ایک رات میں ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔متعدد شہروں میں شہری علاقوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ماسکو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کرسک کے علاقے پر مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔یاد رہے کہ اگست 2024 میں یوکرائنی افواج نے ایک غیر متوقع حملے کے دوران اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔تاہم، یوکرائنی حکام نے روسی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرسک میں اب بھی شدید لڑائی جاری ہے۔
یوکرینی دفاعی حکام ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں، اور مزید تفصیلات آئندہ چند گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور یوکرین کے مختلف علاقوں میں ہنگامی الرٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔