یروشلم ڈے مارچ سے قبل پرانے شہر میں جھڑپیں، مسلم کوارٹر میں ’عربوں کی موت‘ کے نعرے

0

یروشلم ڈے کی تقریبات سے چند گھنٹے قبل، جمعرات کی شام اسرائیلی قوم پرستوں اور فلسطینیوں کے درمیان پرانے شہر کے مسلم کوارٹر میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں مارچ میں شریک درجنوں افراد نے "عربوں کی موت” جیسے نفرت انگیز نعرے لگا کر فضا کو مزید کشیدہ کر دیا۔

مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق، متعدد اسرائیلی قوم پرست کارکن اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے فلسطینی علاقوں سے گزرے، جس کے دوران کم از کم آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ان مظاہرین نے بدنظمی اور تصادم کو ہوا دی، جب کہ اسرائیلی پولیس نے محدود کارروائی کرتے ہوئے صرف کچھ جھڑپوں کو کنٹرول کیا۔

یہ واقعہ سالانہ یروشلم ڈے فلیگ مارچ سے قبل پیش آیا، جو 1967 کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں نکالا جاتا ہے۔ مارچ کا متنازعہ راستہ پرانے شہر کے ان علاقوں سے گزرتا ہے جہاں فلسطینی اکثریت میں ہیں، اور یہی راستہ ہر سال کشیدگی کی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، مارچ سے پہلے فلسطینی دکانداروں کو زبردستی دکانیں بند کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ مکینوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نفرت انگیز تقاریر اور اقلیتوں کو دھمکانے کی کوششوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

واقعے پر کئی عالمی حکومتوں اور اقوام متحدہ کے نمائندوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر نے صورتحال کو "انتہائی خطرناک اور پریشان کن” قرار دیتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.