پاکستان نے بھارت سے دزرعی سپرے منگوانے پر پابندی عائد کردی۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کو بتایا گیا کہ بھارت سے سپرے کی درآمد 2022 میں شروع کی گئی تاہم فصلوں اور پھلوں پر منفی اثرات کے باعث تحقیقات کے بعد اس کی درآمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی شکایات پر حکومت نے سونے کی تجارت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ کمیٹی نے چاول کے برآمد کنندگان کو درپیش مسائل حل کرنے کی سفارش بھی کر دی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تجارت کا اجلاس جاوید حنیف کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس میں بھارت سے درآمد کردہ سپرے کی وجہ سے پیداوار پر منفی اثرات کا انکشاف کیا گیا۔ رکن کمیٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ بھارت سے درآمد کردہ سپرے کی وجہ سے مسائل ہیں۔ بھارت سے درآمد کردہ اسپرے پر پابندی عائد کی جائے۔
ڈائریکٹر جنرل محکمہ پلانٹ اینڈ پروٹیکشن نے اجلاس کو بتایا کہ اس سپرے کی درآمد 2022 سے شروع ہوئی تھی تاہم اب تحقیقات کے بعد اس کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
کمیٹی ارکان نے کینو، آم اور چاول کے برآمدات کنندگان کو درپیش مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جیولرز ایسوسی ایشن کے نمائندے نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت نے سونے اور جیولری کی تجارت پر اچانک پابندی لگا دی ہے جس پر سیکرٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کی شکایت پر اسی مہینے یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ڈیٹا کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ملک میں سونے اور جیولری کی تجارت مینوئل سسٹم پر چل رہی ہے۔ مستقبل میں اس تجارت کو سنگل ونڈو پر منتقل کیا جائے گا۔ پابندی ہٹانے کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔
کمیٹی نے اگلے اجلاس میں اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، ٹی ڈیپ حکام کو طلب کر لیا۔
فروٹ جوسز انڈسٹری کے نمائندے نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ بتایا کہ پاکستان سے فروٹ جوسز 26 ممالک میں جا رہے ہیں۔ اس وقت برآمدات کا حجم 15 ملین ڈالر ہے اس کو دگنا کیا جا سکتا ہے۔ انڈسٹری کو اگر کچھ مراعات دی جائیں تو برآمدات بڑھ سکتی ہیں۔ سیکرٹری تجارت نے کہا کہ جوس انڈسٹری کو ریبٹ ایف بی آر نے دینا ہے۔ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کو ریگولیٹ ایف بی آر کرتا ہے ہم صرف سفارش کر سکتے ہیں