میکرون کا یورپ-ایشیا اتحاد کا مطالبہ: عالمی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان استحکام کی نئی حکمت عملی

0

شنگری لا سیکیورٹی ڈائیلاگ میں فرانسیسی صدر کا اہم خطاب، جغرافیائی سیاسی تقسیم پر تنقید

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سنگاپور میں منعقدہ شنگری لا سیکیورٹی ڈائیلاگ میں ایک اہم خطاب کرتے ہوئے عالمی استحکام، امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد کی تشکیل کی پرزور وکالت کی ہے۔

میکرون نے اس تجویز کو "ایک مثبت نیا اتحاد” قرار دیا جو دنیا کو تقسیم، جبر اور جغرافیائی بالادستی کے بجائے تعاون، احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر لے جائے گا۔

میکرون نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ آج دنیا کو سب سے بڑا خطرہ دو سپر پاورز کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم سے لاحق ہے۔ انہوں نے روس اور شمالی کوریا جیسے "ترمیم پسند اداکاروں” پر بھی تنقید کی، جو ان کے مطابق یورپ سے لے کر بحیرہ جنوبی چین تک کے خطوں پر زبردستی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ”آج ہمارا اصل چیلنج یہ ہے کہ عالمی تناؤ کے اس دور میں امن کو کیسے برقرار رکھا جائے،”

میکرون کی تجویز کردہ شراکت داری درج ذیل مشترکہ اصولوں پر مبنی تعاون، دفاعی روابط اور معلوماتی اشتراک، تجارتی شراکت داری اور اقتصادی روابط، بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کا فروغ اور کثیر قطبی دنیا کے تصور کی حمایت کے نکات پر مبنی ہے

انہوں نے زور دیا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک کو چاہیے کہ وہ اثر و رسوخ کی تقسیم کی پالیسیوں کو مسترد کریں اور ایک متوازن، منصفانہ اور لچکدار بین الاقوامی نظام کی تعمیر میں مشترکہ کردار ادا کریں۔

فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام کو صرف عسکری توازن یا اثر و رسوخ کے مراکز پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی بنیاد بین الاقوامی قانون، اجتماعی ترقی اور ہم آہنگی پر ہونی چاہیے۔

میکرون کا پیغام ان تمام اقوام کے لیے ہے جو موجودہ سپر پاور حریفانہ نظام سے نالاں ہیں اور ایک زیادہ مساوی عالمی نظم کی تلاش میں ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.