تحریر: ریحان طاہر
ہر سال 5 جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس دن کا مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے کہ ہم اپنی زمین، اپنے قدرتی وسائل اور آنے والی نسلوں کے لیے کیسا ماحول چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ 2025 کے عالمی دن کی توجہ پلاسٹک کی آلودگی کے خاتمے پر مرکوز ہے، جو آج دنیا کو درپیش سب سے سنگین ماحولیاتی مسائل میں سے ایک ہے۔
پلاسٹک بظاہر ایک سہولت بخش ایجاد ہے، مگر اس کا استعمال بے لگام ہو چکا ہے۔ دنیا میں ہر سال تقریباً 400 ملین ٹن پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے، جس میں سے ایک بڑا حصہ واحد استعمال (single-use) کے بعد زمین، سمندر، دریا، نالوں اور فضاؤں کو آلودہ کرتا ہے۔ پلاسٹک کئی سو سال تک ختم نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے چھوٹے ذرات (microplastics) کی صورت میں مٹی، پانی اور خوراک کا حصہ بن جاتا ہے، جس کے مضر اثرات انسانوں، جانوروں اور آبی حیات تک پہنچتے ہیں۔
پاکستان میں روزانہ ہزاروں ٹن پلاسٹک استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر شاپنگ بیگز، بوتلیں، پیکنگ مواد اور سستا پلاسٹک کا سامان۔ شہروں میں نالے بند ہو جاتے ہیں، بارشوں میں سیلاب کی شدت بڑھ جاتی ہے، جانور پلاسٹک کھا کر مر جاتے ہیں اور ماحول کی خوبصورتی تباہ ہو رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران ہماری صحت، معیشت اور قدرتی نظاموں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Prev Post