لندن — برطانوی یہودیوں کی نمائندہ تنظیم بورڈ آف ڈیپٹیز آف برٹش جیوز نے اپنے پانچ ارکان کو اس وقت معطل کر دیا جب یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں جاری فوجی کارروائی پر تنقید کرنے والے ایک کھلے خط کی ترتیب و اشاعت میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
یہ متنازع خط 16 اپریل کو فنانشل ٹائمز میں شائع ہوا تھا جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر الزام لگایا گیا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے سیاسی عناصر کو خوش کرنے کے لیے تباہ کن پالیسیاں اپنا رہے ہیں۔ خط میں کہا گیا”ہماری یہودی اقدار ہمیں بولنے اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے پر مجبور کرتی ہیں۔”
یہ بیان برطانیہ کی یہودی برادری کے ان حلقوں میں ہلچل کا باعث بنا جو عمومی طور پر اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔
بورڈ آف ڈیپٹیز نے منگل کے روز تصدیق کی کہ دو ماہ کی داخلی تفتیش کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ خط پر دستخط کرنے والے تمام 36 افراد نے تنظیم کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔
- 31 ارکان کو تنبیہ جاری کی گئی جنہوں نے صرف دستخط کیے تھے لیکن اشاعت میں فعال کردار ادا نہیں کیا۔
- 5 ارکان جو خط کے منصوبہ ساز اور تشہیر کنندہ تھے، کو دو سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔
- ان میں سے تین ارکان کو معافی مانگنے پر معطلی چھ ماہ تک محدود کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
بورڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ تنظیمی اتحاد اور برادری کی ذمہ داری کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔
یہ فیصلہ برطانوی یہودی برادری میں اسرائیل کی پالیسیوں پر داخلی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں ایک جانب کچھ افراد اس تنقید کو "یہودی ضمیر کی آواز” قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری جانب اسے "فرقہ وارانہ اتحاد کو نقصان پہنچانے والا قدم” تصور کیا جا رہا ہے۔
خط کو بورڈ کی 10 فیصد رکنیت کی حمایت حاصل تھی اور یہ یہودی میڈیا سے باہر بھی بڑے پیمانے پر شیئر ہوا، جس سے اس کی گونج مزید بڑھ گئی۔
اس واقعے نے ڈائاسپورا کمیونٹیز میں غزہ جنگ پر رائے کی آزادی، ادارہ جاتی دباؤ، اور اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے اندرونی تناؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ تنقید کو دبانے کی یہ کوششیں نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہیں بلکہ یہودی برادری میں بڑھتی ہوئی اخلاقی تشویش کو دبا نہیں سکتیں۔
