واشنگٹن میں White House میں منعقدہ کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے ملزم کول ٹوماس ایلن کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق اس نے حملے سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلِ خانہ کو ایک پیغام بھیجا تھا۔
امریکی میڈیا، خصوصاً New York Post کی رپورٹ کے مطابق ملزم نے اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
اہلِ خانہ کو بھیجے گئے پیغام میں اس نے مختلف عالمی مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ خود ان متاثرین میں شامل نہیں، تاہم دوسروں پر ہونے والے ظلم پر خاموش رہنا بھی جرم کے مترادف ہے۔ اس نے اپنے الفاظ میں انتظامیہ کے خلاف شدید غصے اور اقدام کے جواز کو بیان کرنے کی کوشش کی۔
دوسری جانب ملزم نے ابتدائی تفتیش میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ Washington Hilton میں سیکیورٹی انتہائی کمزور تھی اور وہ متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بغیر کسی مؤثر جانچ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب رہا۔
ملزم کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی توجہ زیادہ تر بیرونی مظاہرین اور داخلی راستوں پر تھی، جبکہ اندرونی خطرات کو نظر انداز کیا گیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی تربیت یافتہ حملہ آور ہوتا تو اس سے کہیں زیادہ مہلک کارروائی ممکن تھی۔
حکام کے مطابق ملزم نے قانونی طور پر دو ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن خریدی تھی اور وہ شوٹنگ رینج میں باقاعدگی سے پریکٹس بھی کرتا تھا۔
یاد رہے کہ اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ فائرنگ کے اس واقعے کا ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے براہِ راست تعلق ظاہر نہیں ہوتا، تاہم تفتیش مکمل ہونے تک کسی امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کے محرکات، سیکیورٹی خامیوں اور ممکنہ روابط کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ملزم کے خلاف باضابطہ الزامات عائد کیے جانے کا عمل بھی جاری ہے۔
