سیز فائر کے باوجود ڈیڑھ ماہ بعد بھی بھارت کی جانب سے کرتارپور راہداری بند

کرتارپور، نارووال – پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کو ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے، تاہم بھارت نے تاحال کرتارپور راہداری کو یاتریوں کے لیے بند رکھا ہوا ہے، جس پر سکھ برادری نے تشویش اور ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

دربار صاحب کرتارپور کی انتظامیہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے راہداری بدستور کھلی ہے اور دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، تاہم بھارتی یاتریوں کو ابھی تک اجازت نہیں ملی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے”کرتارپور راہداری بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک تاریخی علامت ہے، جسے بھارت نے یکطرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔”

بھارت میں موجود سکھ برادری اور دنیا بھر سے آئے یاتریوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ”کرتارپور راہداری فوری کھولی جائے اور مذہبی مقامات کو سیاست سے دور رکھا جائے۔”

سکھ یاتریوں کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کرتارپور راہداری کو امن، احترام اور مذہبی آزادی کی علامت کے طور پر کھلا رکھا، لیکن بھارت کا مسلسل انکار سکھ مذہبی آزادیوں کے منافی ہے۔

بھارتی حکومت نے کرتارپور راہداری کو مئی 2025 کے اوائل میں کشمیر سرحد پر کشیدگی کے بعد بند کیا تھا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان جون 2025 میں سیز فائر معاہدہ طے پایا، تاہم کرتارپور راہداری بدستور بند ہے۔

یاد رہے کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح نومبر 2019 میں ہوا تھا، جو پاکستان کے نارووال اور بھارت کے گورداسپور کو ملاتی ہے۔بھارت کی جانب سے راہداری بند رکھنا نہ صرف سفارتی نرمی کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کے بھی منافی ہے۔مبصرین کے مطابق، یہ اقدام بھارت کے اندرونی سیاسی دباؤ یا انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے