پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا خواب پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت کے قریب ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد ممالک اس کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ریاض سے جاری بیان میں انہوں نے فلسطین کے لیے بین الاقوامی حمایت بڑھانے کا سہرا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی سفارتی کوششوں کو دیا۔ اشرفی کے مطابق برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فرانس اور متعدد یورپی ممالک اب فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہو رہے ہیں، جسے انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی "جارحانہ اور دہشت گردانہ پالیسیوں” کا ردِعمل قرار دیا۔
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین نے کہا"فلسطینی عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور استقامت کے نتیجے میں اپنی اصل منزل حاصل کریں۔”
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ستمبر 2025 فلسطینی کاز کے لیے ایک بڑی مثبت پیش رفت لائے گا، جب کئی بااثر ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ ان کے بقول یہ نہ صرف فلسطینی عوام کی کامیابی ہوگی بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے امید کی ایک نئی کرن بھی ہوگی۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور ملک کی تمام بڑی مذہبی و سیاسی جماعتوں نے فلسطین کے حق میں یکساں موقف اختیار کر کے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا"ہم کل بھی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور آزادی و خودمختاری کے حصول تک ان کے ساتھ ڈٹے رہیں گے۔”
طاہر اشرفی نے فلسطینی اور کشمیری عوام کے لیے خصوصی دعا کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا جائے اور ہر قسم کے جبر و ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے۔
