قطر: غزہ جنگ بندی پر اسرائیل کے جواب کا انتظار برقرار

قطر نے ایک بار پھر تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر اسرائیل کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے، حالانکہ حماس ایک ہفتے سے زائد عرصہ قبل اس فریم ورک کو قبول کر چکی ہے۔

یہ معاہدہ، جس کی ثالثی قطر، مصر اور امریکہ کر رہے ہیں، ابتدائی 60 دن کی جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی مرحلہ وار رہائی کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ طویل مدتی جنگ بندی پر تب تک غور نہیں کرے گا جب تک کہ تمام مغویوں کی رہائی نہ ہو جائے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کے روز بیان دیتے ہوئے کہا“ہم ابھی تک اسرائیل کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو بیانات ہم سن رہے ہیں وہ ہمیں اعتماد سے نہیں بھرتے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام کے غیر سرکاری بیانات کو وہ سیاسی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں، نہ کہ باضابطہ وعدے۔

گزشتہ ہفتے حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ قاہرہ مذاکرات کے بعد تازہ ترین منصوبے کو تسلیم کر چکی ہے۔ یہ تجویز بڑی حد تک اس ورژن سے مشابہ ہے جو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے پیش کیا تھا اور جسے اسرائیل نے ماضی میں جزوی طور پر قبولیت دی تھی۔

بین الاقوامی ثالث اسرائیل کے سرکاری جواب کے منتظر ہیں، لیکن وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو کہا تھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو “ہمارے تمام مغویوں کی رہائی کے لیے” نئے مذاکرات پر کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے غزہ شہر پر نئے فوجی آپریشن کے منصوبے کی منظوری بھی دی، جس نے ثالثی کرنے والے ممالک میں تشویش کو جنم دیا ہے۔

قطری ترجمان ماجد الانصاری نے خبردار کیا کہ“اب ذمہ داری اسرائیل پر ہے کہ وہ میز پر پہلے سے موجود پیشکش کا جواب دے۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی تیاریوں سے ہمیں کوئی مثبت راستہ نظر نہیں آ رہا۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے