جکارتہ — انڈونیشیا میں ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے خلاف عوام احتجاج نے سنگین صورت اختیار کرلی ہے۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے قریب شدید ہنگامہ آرائی کی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت کو بھی آگ لگا دی۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے باعث متعدد افراد عمارت کے اندر پھنس گئے، جن میں سے کئی نے کھڑکیوں سے کود کر جان بچائی، تاہم اس دوران متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ حکام کے مطابق تصادم میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بعض حساس علاقوں میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
بحران کی شدت کے باعث انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے اپنا مجوزہ دورہ چین منسوخ کردیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر چینی صدر سے باضابطہ معذرت کرلی۔
صدر پرابوو نے عوامی دباؤ کے پیشِ نظر قانون سازوں کی مراعات کم کرنے اور بعض پارلیمانی پالیسیوں کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے حکومت کے اعلانات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے آج بڑے پیمانے پر احتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔
