سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ قطر پر حملے کا ردعمل نہیں، وزیردفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ قطر پر حملے کا ردعمل نہیں ہے، سعودی عرب اور پاکستان کافی عرصے سے اس پر بات کررہے تھے۔

برٹش امریکی صحافی مہدی حسن کو انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دفاعی تعلقات بہت طویل ہیں، پہلے بھی ہماری افواج سعودی عرب میں تعینات رہی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ابھی بھی ہماری افواج سعودی سرزمین پر موجود ہیں، اس ڈیل سے دفاعی تعلقات کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد کوئی بھی ایٹمی طاقت ہتھیار استعمال کرنے کے حق میں نہیں۔ ناگاساکی اور ہیروشیما کے بعد دنیا میں متعدد ایٹمی طاقتوں کی موجودگی کے باوجود کسی نے بھی اس حد تک جانے کی جرات نہیں کی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کا کہنا تھا کہ ہماری جمہوریت بہترین نہیں لیکن ہم اس راہ پر گامزن ہیں، میں خود بغیر کسی الزام کے 6 ماہ جیل میں رہا ہوں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی حالیہ سعودی عرب کے دوران محمد بن سلمان سے ملاقات میں رہنماؤں نے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیئے ، معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی بڑھانے اور امن کے حصول کےلیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتاہے۔ معاہدے کے مطابق کسی بھی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے، معاہدہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع اور تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے