اقوام متحدہ کا پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات ناکام ہونے پر اظہارِ تشویش

اقوامِ متحدہ: سیکرٹری جنرل کے انتخاب کا عمل شروع، خواتین امیدواروں پر زور دیا گیا

نیویارک / اقوام متحدہ — اقوام متحدہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے ناکام ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں تعطل "یقیناً تشویش کا باعث ہے”۔

ڈوجارک نے مزید کہا "ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ نہیں ہوگا، جنگ بندی برقرار رہے گی اور کسی قسم کی مسلح جھڑپ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔”

استنبول میں حالیہ مذاکرات پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سرحد پار دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کے موضوع پر ہوئے تھے۔ تاہم مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
پاکستانی وفد نے افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کے شواہد پیش کیے، مگر افغان نمائندوں نے کسی عملی ضمانت پر اتفاق نہیں کیا۔
پاکستان نے مذاکرات کے بعد اعلان کیا کہ وہ دہشت گرد عناصر اور ان کے معاونین کے خلاف یکطرفہ کارروائیوں کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ "سفارتی راستوں کے ذریعے اختلافات حل کریں اور سرحدی امن کو برقرار رکھیں”۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ بات چیت ہی دیرپا امن اور علاقائی استحکام کی ضمانت ہے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی تشویش اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری خطے میں بڑھتی کشیدگی سے فکرمند ہے۔
ان کے مطابق اگر مذاکرات کا سلسلہ بحال نہ ہوا تو سرحدی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جو خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے