پوپ لیو چہار دہم کی پسندیدہ فلموں میں ہولوکاسٹ پر مبنی “لائف اِز بیوٹی فل” شامل

0

روم  — پوپ لیو چہار دہم نے اپنی ہمہ وقت کی چار پسندیدہ فلموں میں 1997 کی معروف اطالوی فلم "لائف اِز بیوٹی فل” (Life Is Beautiful) کو شامل کیا ہے، جو ہولوکاسٹ کے پس منظر میں باپ اور بیٹے کے رشتے پر مبنی ایک جذباتی کہانی ہے۔

فلم کے ہدایت کار اور اداکار رابرٹو بینینی نے اس میں ایک اطالوی یہودی باپ کا کردار نبھایا ہے جو نازی حراستی کیمپ میں اپنے بیٹے کو ظلم و ستم کی حقیقت سے بچانے کے لیے مزاح اور کہانی سنانے کا سہارا لیتا ہے۔ فلم نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کی، سات آسکر نامزدگیاں حاصل کیں جن میں سے تین ایوارڈز اپنے نام کیے۔

ٹائم آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ پوپ کی فہرست میں شامل دیگر فلموں میں 1965 کی میوزیکل کلاسک "دی ساؤنڈ آف میوزک”، کرسمس پر مبنی معروف فلم "اِٹس اے ونڈر فل لائف”، اور رابرٹ ریڈفورڈ کی خاندانی ڈرامہ فلم "آرڈنری پیپل” شامل ہیں۔

ویٹیکن کے مطابق، پوپ نے ان فلموں کے انتخاب کی وجوہات بیان نہیں کیں، البتہ ان کا اعلان ایک ویڈیو پیغام میں اس وقت کیا گیا جب انہوں نے فلم سازوں کے عالمی اجلاس کا اعلان کیا جو ہفتے سے ویٹیکن میں شروع ہو رہا ہے۔

“لائف اِز بیوٹی فل” یہودی حلقوں میں طویل عرصے سے ایک متنازعہ فلم سمجھی جاتی ہے۔ کچھ ناقدین کے مطابق، فلم نے ہولوکاسٹ جیسے حساس موضوع میں طنز و مزاح کا غیر ضروری امتزاج پیدا کیا ہے، جس سے حراستی کیمپوں کے متاثرین کے دکھ اور تاریخی حقائق مسخ ہوئے۔ مشہور مزاح نگار میل بروکس نے بھی اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ بینینی یہودی نہیں تھے، اس لیے وہ ہولوکاسٹ کے تجربے کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہے۔

ویٹیکن کے اجلاس میں یہودی اور غیر یہودی فلم سازوں کو مدعو کیا گیا ہے جن میں امریکی ڈائریکٹر جوڈ اپاٹو، پولش نژاد آسکر یافتہ فلم ساز پاول پاولیکووسکی (فلم Ida کے ڈائریکٹر)، اور اطالوی ہدایت کار مارکو بیلوچیو شامل ہیں جنہوں نے 19ویں صدی میں ایک یہودی لڑکے ایڈگارڈو مورٹارا کے اغوا پر مبنی تاریخی فلم بنائی۔

پوپ لیو چہار دہم نے حال ہی میں کیتھولک و یہودی تعلقات کی بہتری کے لیے "نوسٹرا ایٹیٹ” کے 60 سال مکمل ہونے پر تقریب منعقد کی تھی، جس میں چرچ نے پہلی بار یہ تسلیم کیا کہ یہودی عیسیٰ کے قتل کے ذمہ دار نہیں تھے۔ تاہم تقریب کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جب پوپ کے سوئس گارڈ کے ایک رکن نے مبینہ طور پر ایک یہودی خاتون مہمان کی جانب توہین آمیز اشارہ کیا۔ ویٹیکن نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.