ٹوکیو – جاپانی وزیرِاعظم سانائے تاکائیچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلی فون کال میں انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی بھی وقت رابطہ کر سکتی ہیں، جس کا مقصد حالیہ سفارتی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد بحال کرنا ہے۔
تاکائیچی کے اس ماہ پارلیمنٹ میں دیے گئے غیر رسمی ریمارکس—جن میں انہوں نے کہا تھا کہ تائیوان پر ممکنہ چینی حملہ جاپان کو فوجی اقدام پر مجبور کر سکتا ہے—بیجنگ کی شدید ناراضی کا باعث بنے۔ چین نے اس بیان کے جواب میں جاپان کے سفر کے بائیکاٹ سمیت سخت ردعمل ظاہر کیا۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جو جاپان کے قریب صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور اس نے جزیرے پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ تائیوان کی حکومت بیجنگ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ جزیرے کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے عوام کریں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے جاپان اور چین کے درمیان اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا، جسے ٹوکیو کے بعض حلقے تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم، منگل کی فون کال کے بعد وزیرِاعظم تاکائیچی نے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی۔
تاکائیچی کے مطابق، "صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور میں بہت اچھے دوست ہیں اور میں انہیں کسی بھی وقت کال کر سکتی ہوں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے چین کے ساتھ حالیہ امریکی سفارتی رابطوں، خصوصاً چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، شی جن پنگ نے ٹرمپ کو بتایا کہ تائیوان کا ’’چین سے دوبارہ انضمام‘‘ بیجنگ کے عالمی وژن کا بنیادی حصہ ہے۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں پیشرفت کا ذکر کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’انتہائی مضبوط‘‘ قرار دیا، تاہم تائیوان پر کسی گفتگو کا ذکر نہیں کیا۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے وزیرِاعظم تاکائیچی کے ساتھ ہونے والی کال پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
