پوپ لیو چہاردہم کی اسلام مخالف رجحانات اور نسل پرستی پر شدید تنقید
پوپ لیو چہاردہم نے یورپ اور امریکا میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف جذبات، نسل پرستی اور مہاجرین کے خلاف سیاسی مہمات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وہ ترکیہ اور لبنان کے دورے سے روم واپسی کے دوران طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ دورہ اُن کا رواں برس مئی میں پاپائیت سنبھالنے کے بعد پہلا غیر ملکی سفر تھا۔
پوپ نے کہا کہ اسلاموفوبیا خوف کی اس سیاست کا نتیجہ ہے جسے وہ عناصر ہوا دیتے ہیں جو مہاجرین کی مخالفت، قوم پرستی اور نسلی امتیاز کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف مذاہب، نسلوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نفرت اور خوف پیدا کرنا غیر انسانی، غیر اخلاقی اور مسیحی تعلیمات کے منافی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسلام یا مہاجرین سے خوف اُن لوگوں کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے جو دوسروں کو معاشروں سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ پوپ لیو چہاردہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کو بھی غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کلیسا کو چاہیے کہ قوموں کے درمیان سرحدیں کھولنے اور معاشروں میں موجود نسلی و طبقاتی دیواریں گرانے میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔