یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس مکمل طور پر تیار ہے: روسی صدر پیوٹن

President Putin congratulates Iran's new Supreme Leader Mojtaba Khamenei, Russia assures Tehran of standing by him

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک پر یوکرین امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں جنگی جنون اپنے عروج پر ہے اور وہاں کے رہنماؤں کے پاس امن کا کوئی واضح ایجنڈا موجود نہیں۔

پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین میں مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے سے روکنا ہے، جبکہ روس اس بات کا خواہاں ہے کہ یورپ زمینی حقائق کا ادراک کرے تاکہ سفارتی راستے کھل سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپ جنگ کا آغاز کرتا ہے تو پھر مذاکرات کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل روسی صدر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی۔ کریملن کے مطابق بات چیت میں امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے یوکرین جنگ بندی فارمولے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیوٹن نے کہا کہ امریکی تجاویز وہی ہیں جو ان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں زیر غور آئی تھیں اور یہ تجاویز حتمی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ روس یوکرین تنازع کے سیاسی و سفارتی حل کا خواہاں ہے۔

ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ امن عمل میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور وہ روس اور یوکرین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے