یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس مکمل طور پر تیار ہے: روسی صدر پیوٹن

0

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک پر یوکرین امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں جنگی جنون اپنے عروج پر ہے اور وہاں کے رہنماؤں کے پاس امن کا کوئی واضح ایجنڈا موجود نہیں۔

پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یوکرین میں مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے سے روکنا ہے، جبکہ روس اس بات کا خواہاں ہے کہ یورپ زمینی حقائق کا ادراک کرے تاکہ سفارتی راستے کھل سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپ جنگ کا آغاز کرتا ہے تو پھر مذاکرات کے امکانات ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل روسی صدر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی۔ کریملن کے مطابق بات چیت میں امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے یوکرین جنگ بندی فارمولے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیوٹن نے کہا کہ امریکی تجاویز وہی ہیں جو ان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں زیر غور آئی تھیں اور یہ تجاویز حتمی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ روس یوکرین تنازع کے سیاسی و سفارتی حل کا خواہاں ہے۔

ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ امن عمل میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا اور وہ روس اور یوکرین کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.