پوپ لیو کی مذہب کے نام پر تشدد اور قوم پرستی کو فروغ دینے والے رہنماؤں کی سخت مذمت

پوپ لیو کی مذہب کے نام پر تشدد اور قوم پرستی کو فروغ دینے والے رہنماؤں کی سخت مذمت

ویٹیکن سٹی  – کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے مذہب کو تشدد، جنگ اور قوم پرستانہ پالیسیوں کے جواز کے طور پر استعمال کرنے والے سیاسی رہنماؤں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے توہینِ مذہب اور سنگین اخلاقی گناہ قرار دیا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ اپنے پیغام میں، جو یکم جنوری کو منائے جانے والے کیتھولک چرچ کے عالمی یومِ امن سے قبل شائع کیا گیا، پوپ لیو نے کسی مخصوص ملک یا رہنما کا نام نہیں لیا، تاہم مذہبی عقائد کے سیاسی استحصال کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا۔

پوپ لیو، جو تاریخ کے پہلے امریکی پوپ ہیں، نے کہا “بدقسمتی سے آج مذہب کی زبان کو سیاسی لڑائیوں میں گھسیٹا جا رہا ہے، قوم پرستی کو ہوا دی جا رہی ہے، اور مذہب کے نام پر تشدد اور مسلح جدوجہد کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ ایمان رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل اور کردار کے ذریعے ایسی تمام کوششوں کی فعال مزاحمت کریں جو خدا کے مقدس نام کی بے حرمتی کا باعث بنتی ہوں۔

چار صفحات پر مشتمل اس پیغام میں پوپ لیو نے جنگ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت میں ذمہ داری سے فرار کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلے تیزی سے مشینوں کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔

پوپ کے مطابق، “یہ عمل انسانیت کے ان قانونی اور فلسفیانہ اصولوں سے بے مثال اور خطرناک غداری ہے جو ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔”

مرحوم پوپ فرانسس کے بعد مئی میں منتخب ہونے والے پوپ لیو نے اپنے مختصر دورِ قیادت میں متعدد مواقع پر مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور انسانی مضمرات پر خبردار کیا ہے۔ بطور پوپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران بھی انہوں نے مذہب کے نام پر تشدد کی مذمت کی تھی۔ گزشتہ ماہ ترکی کے دورے کے دوران انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسیحی رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ “جنگ، تشدد اور ہر قسم کی انتہاپسندی کو جواز فراہم کرنے کے لیے مذہب کے استعمال کو مکمل طور پر مسترد کریں۔”

اپنے تازہ پیغام میں پوپ لیو نے دنیا بھر میں فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2024 میں عالمی فوجی اخراجات میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا، جو مجموعی طور پر 2.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو عالمی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 2.5 فیصد بنتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے