مودی کا دورہ عمان: بھارت اور عمان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا

مودی کا دورہ عمان: بھارت اور عمان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ طے پا گیا

دبئی / نئی دہلی  – بھارت نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سفارتی اور تجارتی روابط کو وسعت دیتے ہوئے عمان کے ساتھ ایک جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔

بھارتی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس معاہدے کے تحت عمان نے اپنی 98 فیصد سے زائد ٹیرف لائنز پر بھارتی مصنوعات کے لیے زیرو ڈیوٹی رسائی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ان میں جواہرات و زیورات، ٹیکسٹائل، دواسازی، آٹوموبائل اور دیگر اہم بھارتی برآمدات شامل ہیں۔

اس کے بدلے بھارت نے اپنی تقریباً 78 فیصد ٹیرف لائنز پر محصولات میں کمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے نتیجے میں قدر کے لحاظ سے عمان سے آنے والی تقریباً 95 فیصد درآمدات کو رعایت حاصل ہو گی۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت اور عمان کے درمیان سالانہ تجارتی حجم 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ عمان کی جغرافیائی حیثیت بھی بھارت کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ملک ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز کا دروازہ ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے عمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو نئی رفتار دے گا، سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ کرے گا اور مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا۔

یہ معاہدہ رواں سال برطانیہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے کے بعد بھارت کا دوسرا بڑا اقتصادی معاہدہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد بھارتی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ تعزیری محصولات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے