سوڈان میں تین روز میں 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر، انسانی بحران مزید سنگین: اقوام متحدہ
خرطوم / جنیوا — اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ سوڈان کی ریاستوں شمالی دارفور اور جنوبی کردفان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں صرف تین دنوں کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں، جس سے ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ سے وابستہ بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ شمالی دارفور کے شہروں ام برو اور کرنوی سے سات ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جن پر حالیہ دنوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز نے قبضہ کر لیا تھا۔
آئی او ایم کے مطابق جنوبی کردفان میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں کادوقلی شہر سے تین ہزار سے زائد افراد فرار ہو گئے ہیں۔ یہ شہر اس وقت فوج کے کنٹرول میں ہے مگر ریپڈ سپورٹ فورسز نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے، جس کے باعث شہری شدید قحط اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ نے مزید بتایا کہ جنوبی کردفان ہی کے علاقے ابو جبیہہ میں آگ لگنے کے ایک واقعے میں بے گھر افراد کی 45 پناہ گاہیں جل کر خاکستر ہو گئیں، جس سے متاثرہ آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ریپڈ سپورٹ فورسز کی پیش قدمی
ریپڈ سپورٹ فورسز نے بدھ کے روز شمالی دارفور کے شہروں ابو قمرہ اور ام برو پر قبضے کا اعلان کیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق آر ایس ایف کے جنگجو سوڈان کی شمال مغربی سرحد کے قریب الزغاوہ قبیلے کے زیرِ اثر علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، جہاں جھڑپوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اکتوبر میں الفاشر شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد آر ایس ایف نے دارفور میں اپنی پوزیشن مضبوط کی، جس کے نتیجے میں حالیہ مہینوں کے دوران کردفان کے شہروں میں لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔
دنیا کا بدترین انسانی بحران
واضح رہے کہ سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس جنگ کے باعث سوڈان اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں اب تک ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد ملک کے اندر یا سرحد پار بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو گنجان کیمپوں یا دور دراز علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے۔