اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا دفاع، پاکستان سمیت کئی رکن ممالک کا اسرائیلی اقدام مسترد

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، کشیدگی پر شدید ردِعمل

نیویارک — اسرائیل نے پیر کے روز خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے، تاہم اقوام متحدہ میں متعدد ممالک نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنا یا خطے میں فوجی اڈے قائم کرنا ہے۔

اسرائیل کے اس اقدام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت کئی رکن ممالک نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔

پاکستان کا سخت مؤقف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ “اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو دربدر کرکے صومالی لینڈ منتقل کرنا چاہتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

خطے کے استحکام پر خدشات

پاکستانی نائب مندوب نے کہا کہ صومالیہ کی حکومت ملک میں استحکام کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم اسرائیلی رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور یہ خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف افریقی خطے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

عالمی برادری سے مطالبہ

عثمان جدون نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے ذریعے حل کیا جائے اور فلسطینی عوام کو زبردستی بے دخل کرنے یا ان کی جبری منتقلی کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے۔

پس منظر

یاد رہے کہ صومالی لینڈ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ریاست نہیں، تاہم حالیہ عرصے میں بعض عالمی طاقتوں کی جانب سے اس خطے میں بڑھتی دلچسپی نے سفارتی اور سلامتی خدشات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام کو کئی ممالک خطے میں اسٹریٹجک اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے