ٹرمپ منگل کو ایران پر ممکنہ اقدامات پر سینئر مشیروں سے مشاورت کریں گے

ایران پر حملے کے فیصلے پر ٹرمپ کا یوٹرن، کہا قریبی مشیروں نے کارروائی پر آمادہ کیا

واشنگٹن/تہران: ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کے روز اپنے سینئر مشیروں سے ایران سے متعلق ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے، جس میں فوجی اور غیر فوجی آپشنز دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک گروپ کے مطابق ایران میں جاری بدامنی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے نے بتایا کہ اس نے اب تک 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں 10 ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے کوئی سرکاری اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے اور رائٹرز ان معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کو 2022 کے بعد سے اب تک کے سب سے شدید اور وسیع مظاہروں کا سامنا ہے جبکہ صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال ہوا تو امریکا مداخلت کرے گا۔

ادھر وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ممکنات میں فوجی حملے، خفیہ سائبر ہتھیاروں کا استعمال، پابندیوں میں توسیع اور حکومت مخالف ذرائع کو آن لائن مدد فراہم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی یہ مشاورت ایسے وقت میں متوقع ہے جب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کو براہ راست دھمکیاں دے رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے