شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کا عالمی برادری سے ایران میں حکومت پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

0

ایرانی حزبِ اختلاف کی شخصیت اور معزول شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تہران میں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مظاہرین کی مدد کرے تاکہ مذہبی حکمرانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے، ایسے وقت میں جب ایران میں مہلک کریک ڈاؤن کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے دب گئے ہیں۔

واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے “بڑے حصے” نے ان کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے اور یہ ادارے ملک میں ایک مستحکم سیاسی منتقلی کو یقینی بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران واپس آئیں گے تاہم واپسی کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔

میڈیا اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث ایران کے اندر پہلوی کی حمایت کی حقیقی سطح کا اندازہ لگانا مشکل بتایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے ماضی میں ایرانی مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکیاں دی ہیں، نے اس ہفتے پہلوی کی ایران کے اندر حمایت منظم کرنے کی صلاحیت پر شکوک کا اظہار کیا۔ رپورٹس کے مطابق پہلوی نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف سے بھی ملاقات کی تھی۔

امریکی حکام سے رابطوں سے متعلق سوال پر پہلوی نے تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے اسے “حساس وقت” قرار دیا اور کہا کہ انہیں یقین ہے کہ صدر ٹرمپ بالآخر ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں تبدیلی کے لیے عالمی مدد فراہم کرنے میں اب بھی دیر نہیں ہوئی۔

پریس کانفرنس کے دوران دکھائی گئی ویڈیوز میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہونے والے افراد اور احتجاجی مناظر شامل تھے، جن میں بعض مظاہرین کی جانب سے “شاہ زندہ باد” سمیت مختلف نعرے لگائے جاتے دکھائی دیے۔ پہلوی نے کہا کہ ایرانی عوام زمینی سطح پر فیصلہ کن کارروائیاں کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ان کے ساتھ مکمل طور پر شامل ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ممالک ایران کی ایلیٹ فورس اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قیادت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو نشانہ بنائیں، مذہبی حکمرانوں کے اثاثے منجمد کریں اور ایرانی سفارت کاروں کو عالمی دارالحکومتوں سے نکالیں۔ پہلوی نے حکومت کی مواصلاتی ناکہ بندی توڑنے کے لیے اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کے استعمال میں مدد کی بھی اپیل کی۔

رضا پہلوی کے مطابق حکومت یا سیکیورٹی فورسز سے انحراف کے خواہاں افراد کے لیے ایک محفوظ مواصلاتی چینل قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے دسیوں ہزار افراد نے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ رابطے کس حد تک سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اندر اثر رکھتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مظاہرین کی کامیابی کے لیے غیر ملکی فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایرانی عوام خود سڑکوں پر موجود ہیں اور آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پہلوی کا کہنا تھا کہ ان کی قیادت میں قائم ہونے والا جمہوری ایران اپنے پڑوسی ممالک بشمول اسرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں وہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سمیت دیگر حکام سے ملاقات کی تھی۔

65 سالہ رضا پہلوی 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ہی ایران سے باہر مقیم ہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران کی حزبِ اختلاف مختلف نظریاتی دھڑوں میں منقسم ہے، جن میں بادشاہت پسند بھی شامل ہیں، اور اسلامی جمہوریہ کے اندر اس کی منظم موجودگی محدود دکھائی دیتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.