Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

اسحاق ڈار کی استنبول میں آر-4 کے اجلاس میں شرکت ، سعودی عرب کیساتھ یکجہتی کا اظہار

اکتوبر 23, 2026

ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان

اکتوبر 23, 2026

آصف زرداری کی جرمنی کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

اکتوبر 23, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
ہفتہ, اکتوبر 24
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»جاپان میں ایٹمی توانائی کی واپسی پر شدید اختلاف، فوکوشیما کے زخم آج بھی تازہ
دنیا

جاپان میں ایٹمی توانائی کی واپسی پر شدید اختلاف، فوکوشیما کے زخم آج بھی تازہ

EditorBy Editorجنوری 19, 2026Updated:جنوری 19, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
nuclear
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

کاشی وازاکی (جاپان) – جاپان میں ایٹمی توانائی کی جانب واپسی ایک بار پھر قومی توانائی پالیسی کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے، تاہم 2011 کے تباہ کن فوکوشیما جوہری حادثے کی تلخ یادیں آج بھی عوام کے دلوں میں خوف کی صورت زندہ ہیں۔ سونامی، زلزلوں اور ممکنہ انخلاء کے غیر مؤثر منصوبے ایسے خدشات ہیں جنہوں نے ایٹمی ری ایکٹروں کی بحالی کو شدید تنازع بنا دیا ہے۔

نیگاتا پریفیکچر کے ساحلی شہر کاشی وازاکی میں واقع کاشی وازاکی–کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اطراف سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ سڑکوں کو چوڑا کیا جا رہا ہے، بھاری گاڑیاں سخت سیکیورٹی دروازوں تک آ جا رہی ہیں اور پلانٹ کے گرد خار دار تاروں سے لیس طویل حفاظتی باڑیں نصب ہیں۔ ساحل کے قریب پولیس گشت بھی بڑھا دیا گیا ہے، جہاں سے ری ایکٹروں کا واضح منظر دکھائی دیتا ہے۔

یہ پلانٹ دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر تصور کیا جاتا ہے۔ اگر اس کے ساتوں ری ایکٹر مکمل طور پر فعال ہوں تو یہ 8.2 گیگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو لاکھوں گھروں کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ 2012 کے بعد سے یہ پلانٹ ایک واٹ بجلی بھی پیدا نہیں کر سکا۔

یہ بندش مارچ 2011 کے فوکوشیما ڈائیچی جوہری حادثے کے بعد عمل میں آئی، جب ایک شدید زلزلے اور اس کے بعد آنے والے سونامی نے تین ری ایکٹروں کو پگھلا دیا۔ یہ حادثہ چرنوبل کے بعد دنیا کا بدترین جوہری سانحہ قرار دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی اور جاپان کے شمال مشرقی ساحل پر تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

کاشی وازاکی–کاریوا پاور پلانٹ بھی اسی کمپنی ٹوکیو الیکٹرک پاور (ٹیپکو) کے زیر انتظام ہے، جو فوکوشیما پلانٹ کی نگران تھی۔ یہی حقیقت مقامی آبادی کے عدم اعتماد کی سب سے بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔

حادثے کی پندرہویں برسی سے چند ہفتے قبل، ٹیپکو اب مقامی مخالفت کے باوجود پلانٹ کے سات میں سے کم از کم ایک ری ایکٹر کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ری ایکٹر نمبر 6 کو جلد آن لائن کیا جا سکتا ہے، جس سے ٹوکیو اور گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی میں تقریباً دو فیصد اضافہ متوقع ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ جوہری توانائی کی واپسی جاپان کو ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے، کاربن اخراج کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد دے گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب درآمدی ایندھن پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔

تاہم پلانٹ کے 30 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے چار لاکھ سے زائد افراد اس فیصلے کو شدید خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر فوکوشیما جیسا کوئی واقعہ دوبارہ پیش آیا تو انخلاء ممکن نہیں ہو سکے گا۔

کاریوا گاؤں کے رہائشی ریوسوکے یوشیدا، جن کا گھر پلانٹ سے محض ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے، کہتے ہیں کہ انہیں اس منصوبے کے ہر پہلو سے خوف محسوس ہوتا ہے۔
ان کے مطابق “انخلاء کے منصوبے واضح طور پر غیر مؤثر ہیں۔ سردیوں میں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، یہاں زیادہ تر آبادی بوڑھی ہو چکی ہے۔ ایسے لوگ کہاں جائیں گے جو خود چل پھر بھی نہیں سکتے؟ یہ محض سلامتی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔”

ٹیپکو کا دعویٰ ہے کہ اس نے فوکوشیما حادثے سے سبق سیکھا ہے۔ کمپنی کے مطابق پلانٹ میں اب مضبوط سمندری دیواریں، واٹر پروف دروازے، موبائل ڈیزل جنریٹر، فائر انجن اور جدید فلٹرنگ سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تابکار اخراج کو روکا جا سکے۔

کمپنی نے مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے کے لیے آئندہ دس برسوں میں نیگاتا پریفیکچر میں 100 ارب ین کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا ہے۔

ٹیپکو کے ترجمان تاتسویا ماتوبا کے مطابق “جوہری توانائی کے شعبے میں سب سے اہم اصول حفاظت ہے۔ مقامی آبادی کی سمجھ اور اعتماد ہمارے لیے بنیادی شرط ہے۔”

اس کے باوجود عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔ مقامی حکومت کی جانب سے پلانٹ کے مستقبل پر ریفرنڈم کرانے کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا، جس پر شہری تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ سال ہونے والے ایک سرکاری سروے میں پلانٹ کے قریبی علاقوں کے 60 فیصد سے زائد شہریوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ ری ایکٹر کی بحالی کے لیے مقرر کردہ حفاظتی شرائط سے مطمئن نہیں۔

ساحلی سڑکوں پر لگے بورڈ آج بھی اس خدشے کی یاد دلاتے ہیں جن پر لکھا ہے کہ سونامی کی صورت میں قریبی مندر یا گولف کورس کی طرف منتقل ہو جائیں — ایسے مشورے جنہیں مقامی آبادی غیر سنجیدہ اور غیر عملی قرار دیتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جاپان اس وقت ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے ایک طرف توانائی بحران، ماحولیاتی دباؤ اور معاشی ضروریات ہیں، جبکہ دوسری جانب فوکوشیما کا زخم، جس نے عوام کے ذہن میں یہ سوال ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا ہے کہ کیا کوئی بھی جوہری پلانٹ واقعی مکمل طور پر محفوظ ہو سکتا ہے؟

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    مصر سعودی عرب کے سرحدی دفاع میں مدد کرے گا، حوثیوں پر حملے نہیں: السیسی

    اکتوبر 23, 2026

    نیوزی لینڈ کے فوجی سربراہ ٹونی ڈیویز کا استعفیٰ، ماضی کے نامناسب تعلق کی ذمہ داری قبول کرلی

    اکتوبر 23, 2026

    متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی جنرل سیکرٹری کے لیے نامزد

    اکتوبر 23, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026

    عوامی ایکشن کمیٹی: ایک عوامی تحریک یا نظریاتی یرغمالی؟

    فروری 11, 2026

    رائزنگ اسٹار ایشیا کپ میں پاکستان شاہینز نے بھارت کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

    نومبر 16, 2025
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.