ایران میں موساد سے مبینہ تعلق رکھنے والے 35 افراد گرفتار، تخریبی نیٹ ورک بے نقاب

ایران میں فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں چار غیر ملکی گرفتار

ایران کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑے کریک ڈاؤن کے دوران اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی Mossad کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے والے 35 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ایران کے چھ مختلف صوبوں میں کی گئیں اور زیرِ حراست افراد پر اسلحہ اسمگلنگ اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی صوبے خوزستان میں ایک خطرناک نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا گیا، جہاں ایک دہشت گرد گروہ کے سرغنہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق یہ گروہ اسرائیلی حکومت سے وابستہ تھا اور صوبے کو علیحدہ کرنے کی سازش میں مصروف تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق اس گروہ نے خوزستان کے مختلف شہروں میں متعدد تخریبی کارروائیاں کیں، جن میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں خوزستان انٹیلیجنس ڈپارٹمنٹ کا ایک اہلکار اور بسیج فورس کا ایک رکن ہلاک جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔

حکام نے مزید بتایا کہ پولیس اور انٹیلیجنس اداروں کے مشترکہ آپریشن کے دوران ملزمان کو اصفہان میں ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے اس کارروائی کو ملک میں بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے مزید 11 افراد کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ مسلح افراد مارے گئے۔ ایران نے اس کارروائی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مزید کریک ڈاؤن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے