صومالیہ کا اسرائیل کے اقدام پر سخت ردعمل، “صومالی لینڈ” میں سفارتی نمائندے کی تعیناتی مسترد

Somalia strongly reacts to Israel's move, rejects appointment of diplomatic representative in "Somaliland"

صومالیہ نے اسرائیل کی جانب سے شمال مغربی علاقے صومالی لینڈ میں سفارتی نمائندہ تعینات کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

صومالی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک سخت بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی اقدام نہ صرف صومالیہ کی وحدت کے خلاف ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں، خصوصاً اقوام متحدہ کے منشور، افریقی یونین، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے طے شدہ اصولوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ صومالی لینڈ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسے ایک علیحدہ ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ حکومت نے زور دیا کہ اپنی سرزمین کے کسی بھی حصے کو ریاستی کنٹرول سے باہر تسلیم کرنے یا وہاں سفارتی سرگرمیوں کے قیام کی ہر کوشش کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے گا۔

صومالی حکام کے مطابق یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک قومی مفاہمت، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ علیحدگی پسند رجحانات کو بھی تقویت دے سکتے ہیں۔

صومالیہ نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے فیصلے سے دستبردار ہوں اور صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور سیاسی آزادی کا احترام کریں۔ ساتھ ہی عالمی برادری، بشمول یورپی یونین، سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کو مسترد کرے جو کسی خودمختار ریاست کی وحدت کو نقصان پہنچاتے ہوں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اس سے قبل دسمبر 2025 میں صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے، جس پر مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے متعدد ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر کا اس علاقے کا دورہ بھی اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ صومالی لینڈ، جس کا دارالحکومت ہرگیسا ہے، گزشتہ تین دہائیوں سے عملی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے اب تک ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے