China نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اسے محدود کرنے کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوں گی بلکہ دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے خلاف بھی ہوں گی۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے Xinhua News Agency کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان Liu Pengyu نے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ مفاد پر مبنی ہونے چاہئیں، نہ کہ زیرو سم پالیسی پر۔
ترجمان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے چین کو روکنے اور محدود کرنے کی حکمت عملی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے اور اس کے نتائج منفی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی پالیسیاں نہ صرف غیر مؤثر ہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے Taiwan کے معاملے کو چین کے بنیادی مفادات میں شامل قرار دیتے ہوئے اسے “ریڈ لائن” قرار دیا، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ترجمان کے مطابق امریکا کو “ایک چین” پالیسی اور دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ US Department of Defense نے بحرالکاہل خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت “پیسیفک ڈیٹرنس انیشی ایٹو” کے لیے 2027 کے بجٹ میں تقریباً 11.7 ارب ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔ چین نے اس اقدام کو خطے میں عدم استحکام بڑھانے کا سبب قرار دیا ہے۔
