ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اندر کسی قسم کی داخلی تقسیم موجود نہیں۔
ایرانی قیادت نے مشترکہ ردعمل میں واضح کیا کہ ایران میں “نہ کوئی بنیاد پرست ہے اور نہ ہی کوئی میانہ رو”، بلکہ پوری قوم ایک متحد “انقلابی صف” کی صورت میں کھڑی ہے۔ رہنماؤں کے مطابق تمام ادارے سپریم لیڈر کی قیادت میں یکجا ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے لیے میدانِ جنگ اور سفارتکاری ایک ہی حکمت عملی کے دو پہلو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی نے ایرانی ریاستی اداروں کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اور اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ادھر عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژهای نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ ایران کی بحری صلاحیتیں، خصوصاً تیز رفتار کشتیاں اور سمندری ڈرونز، کسی بھی ممکنہ امریکی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے بھی گریز کرتی ہے کیونکہ اسے ایرانی ردعمل کا اندازہ ہے۔
