امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے باوجود امریکہ جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور تنازع کو روایتی عسکری اور سفارتی ذرائع سے ہی آگے بڑھایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کسی صورت درست نہیں اور نہ ہی دنیا میں کسی کو اس کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ روایتی جنگی صلاحیت کے ذریعے اپنی برتری ثابت کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو طویل مدتی اور پائیدار ہو۔ ان کے مطابق فوری معاہدہ ممکن ہے، مگر وہ جلد بازی کے بجائے ایسا حل چاہتے ہیں جو مستقل امن کی بنیاد رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کریں گے اور اس عمل کو وقت درکار ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "میرے پاس وقت ہے لیکن ایران کے پاس نہیں، وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔”
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ فضائی دفاعی نظام بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج مختصر وقت میں ایران کی باقی عسکری صلاحیت کو بھی غیر مؤثر بنا سکتی ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی بھی ایرانی کشتی کو فوری طور پر تباہ کر دیا جائے۔ انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکہ کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی داخلی سیاست پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سخت گیر اور نسبتاً معتدل حلقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، جو فیصلہ سازی کو متاثر کر رہے ہیں۔
