واشنگٹن: امریکا نے عراق میں سرگرم ایران نواز مسلح گروہ حرکت انصار اللہ الاوفیاء کے سربراہ حیدر مظہر مالک الساعدی کی گرفتاری یا اس سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حیدر مظہر مالک الساعدی، جو حیدر الغراوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایران نواز ملیشیا حرکت انصار اللہ الاوفیاء کا سیکریٹری جنرل ہے، اور امریکا کو مطلوب اہم افراد میں شامل ہے۔ واشنگٹن نے اس کے بارے میں مصدقہ معلومات دینے والے کے لیے 10 ملین ڈالر تک انعام مقرر کیا ہے۔
امریکا نے جون 2024 میں حرکت انصار اللہ الاوفیاء اور اس کے سربراہ حیدر مظہر مالک الساعدی کو “خصوصی عالمی دہشت گرد” قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ گروہ خطے میں امریکی مفادات، فوجی اڈوں اور سفارتی تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔
امریکی بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ ملیشیا 28 جنوری 2024 کو اردن میں امریکی فوجی اڈے ٹاور 22 پر ہونے والے ڈرون حملے میں ملوث تھی، جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور امریکا نے ایران سے منسلک گروپوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی تھیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق حرکت انصار اللہ الاوفیاء کے جنگجو عراق میں امریکی سفارتی مراکز، جبکہ اردن اور شام میں امریکی فوجی اڈوں اور اہلکاروں پر حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی خطے میں امریکی مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر امریکا کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق انعامی پروگرام کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کے کلیدی رہنماؤں کی شناخت اور گرفتاری کو ممکن بنانا ہے تاکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص حیدر مظہر مالک الساعدی کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرے گا، اسے امریکی “ریوارڈز فار جسٹس” پروگرام کے تحت انعام دیا جائے گا، جبکہ اطلاع دہندہ کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
