سری نگر: بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں واقع معروف دینی ادارے جامعہ سراج العلوم پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع شوپیاں میں قائم اس ادارے کو “غیر قانونی زمین پر تعمیرات” اور “مشکوک سرگرمیوں” جیسے الزامات کی بنیاد پر بند کیا گیا ہے، تاہم ناقدین ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
جامعہ سراج العلوم کئی دہائیوں سے فلاح عالم ٹرسٹ کے زیر انتظام چل رہا تھا اور اسے مقبوضہ کشمیر میں دینی تعلیم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم تھے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی بلکہ خطے میں مذہبی آزادی اور تعلیمی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ دوسری جانب بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں پہلے ہی سیاسی اور سماجی حالات تناؤ کا شکار ہیں، اور انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
