چین نے ایرانی تیل پر انحصار کرنے والی آئل ریفائنریوں پر عائد امریکی پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ان پابندیوں پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پانچ آئل ریفائنریوں پر لگائی گئی پابندیاں یکطرفہ اور غیر منصفانہ ہیں، اور چین انہیں تسلیم نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اور توانائی کی ضروریات کے مطابق اپنی تجارتی پالیسی جاری رکھے گا۔
وزارت خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد چینی کمپنیوں کو ان کی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں سے روکنا ہے، تاہم چین اس طرح کے اقدامات کو عالمی تجارت کے اصولوں کے منافی سمجھتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ چین کی تمام کمپنیاں بین الاقوامی قوانین اور تجارتی ضوابط کی پاسداری کرتی ہیں، اور ملک اپنی خودمختار اقتصادی پالیسی پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی توانائی منڈیوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی پہلے ہی ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور ایران پر پابندیوں کے اثرات عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔
