یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyy نے بیلاروس کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرے، جبکہ یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر مشکوک عسکری سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ Ukraine سرحدی علاقوں میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یوکرینی صدر نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ Belarus کو Russia کی جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ Russian invasion of Ukraine کے آغاز پر روسی افواج نے بیلاروس کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت کیف کی جانب پیش قدمی کی تھی، تاہم بیلاروس براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا۔
زیلنسکی کے مطابق سرحدی علاقوں میں نئی سڑکوں کی تعمیر اور توپ خانے کی پوزیشنز قائم کی جا رہی ہیں، جبکہ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس بیلاروس میں رہائشی عمارتوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ یوکرینی دفاعی نظام کو دھوکہ دیا جا سکے۔
دوسری جانب یوکرین کے مختلف شہروں میں روسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنوبی شہر Kherson میں ڈرون حملے کے نتیجے میں شہری ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ Dnipro، Odesa، Sumy اور Kharkiv میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق ایک ڈرون حملے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم بعد ازاں بجلی کی فراہمی بحال کر دی گئی۔ مزید برآں یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے ایک اہم بندرگاہی مقام کو گزشتہ 16 دنوں میں چوتھی بار نشانہ بنایا ہے۔
ادھر روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے محاذ پر پیش قدمی کرتے ہوئے Sumy کے علاقے میں ایک گاؤں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ Donetsk Oblast میں بھی پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق Ukraine اور Russia کے درمیان جاری جنگ میں اگر Belarus کا کردار بڑھتا ہے تو اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ حالیہ حملوں میں شدت آنے سے تنازع کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
