ایران کا امریکی جنگ بندی منصوبہ زیرِ غور، حتمی فیصلہ تاحال مؤخر

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

Iran نے تصدیق کی ہے کہ United States کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے بھیجی گئی نئی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اس پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ امریکی پیغام Pakistan کے ذریعے موصول ہوا۔ ان کے مطابق فی الحال اس تجویز کی تفصیلات عوام کے سامنے لانا ممکن نہیں کیونکہ معاملہ ابتدائی جانچ کے مرحلے میں ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے “غیر معمولی اور غیر معقول مطالبات” سامنے آتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے نئی تجویز کا جائزہ لینا بھی پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم افزودگی یا جوہری مواد سے متعلق ممکنہ مذاکرات کا ذکر کیا جا رہا تھا، اور انہیں قیاس آرائیاں قرار دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ اس وقت ایران کی اولین ترجیح جاری کشیدگی اور جنگ کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ دیگر معاملات پر غور بعد میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق مستقبل کی حکمت عملی زمینی حقائق اور حالات کے مطابق ترتیب دی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے ذریعے پیغام رسانی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم Iran اور United States کے درمیان گہرے اختلافات کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے