سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ نے قرار دیا ہے کہ ڈیلی ویجز اور عارضی سروس بھی پنشن میں شمار ہوگی۔ عدالت نے سول ایوی ایشن کے دفتری احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے سابقہ سروس کو پنشن میں شامل نہ کرنا غیر قانونی قرار دیا اور تمام واجبات دو ماہ میں ادا کرنے کا حکم دیا۔
سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ نے سول ایوی ایشن کے ریٹائرڈ ملازمین کی مدتِ ملازمت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔عدالت نے ڈیلی ویجز اور عارضی بنیادوں پر کی گئی سروس کو بھی پنشن کے لیے قابلِ شمار قرار دیتے ہوئے سول ایوی ایشن کے دفتری احکامات کالعدم قرار دے دیے۔
سماعت کے دوران وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے 1998 سے 2001 کے دوران ڈیلی ویجز پر کام شروع کیا تھا جبکہ 2009 میں انہیں مستقل کیا گیا، تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سابقہ سروس کو پنشن میں شامل نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملازمین کا حق ہے اور سابقہ سروس کو نظر انداز کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی انتظامی شرط کے ذریعے ملازمین کے بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے تمام سروس کے مطابق پنشن واجبات کا ازسرنو حساب لگانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام واجبات دو ماہ کے اندر ادا کیے جائیں۔
