خوبصورت ہستی، لازوال رشتہ، دن ہو یا رات اولاد کیلئے کرتی ہے صبح و شام بس کام، زندگی کے تمام دکھوں اور مصیبتوں کو اپنے آنچل میں چھپا لیتی ہے، ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کے چہرے پر صرف مسکراہٹ بکھیرتی ہے۔
1911ء میں امریکا کی ایک ریاست میں پہلی بار ماؤں کا عالمی دن منایا گیا، ہر سال ماؤں کا عالمی دن منانے کیلئے مختلف ممالک میں ایک ہی دن مختص نہیں ہے، پاکستان اور اٹلی سمیت مختلف ممالک میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار منایا جاتا ہے۔
یوں تو ہر دن ماں کا دن ہے لیکن خاص طور پر اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ماؤں کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنا ہے، ہر ماں قابل تحسین ہے لیکن کچھ مائیں ایسی بھی ہیں جو مشکلات کو چیلنج سمجھ کے قبول کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کی خاطر گھروں کی ذمہ داری ہی نہیں سنبھالتیں بلکہ بچوں کے باپ کے شانہ بشانہ محنت کرتی ہیں۔
تمام مخالفتوں اور چیلنجز کے باوجود ایک ماں اپنے بچوں کو بہترین زندگی دینے کیلئے مشکلات اٹھانے کیلئے ہر دم تیار رہتی ہے، ماں کا دل تو بچوں کیلئے دھڑکتا ہے، بچوں کے ساتھ رہنا اولین ترجیح ہے لیکن ان کے بہتر مستقبل کیلئے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں۔
دنیا کا ہر رشتہ انسان کا ساتھ چھوڑ دے تب بھی ماں آخری دم تک اپنی اولاد کی فکر نہیں چھوڑتی، یہ ایک واحد انسانی رشتہ ہے جو بالکل بے غرض ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی ہے کہ پاکستان میں اولڈ ہومز بنے اور اب بھرتے ہی جا رہے ہیں، اپنے بچوں کو پالنے کیلئے ہر دکھ سہنے والی مائیں اولڈ ہومز میں کرب سے گزر رہی ہیں۔
