اب بچوں کو پولیو کے بچاؤ کے قطرے نہ پلوانے پر والدین کیخلاف قانونی کارروائی ہوگی، قومی اسمبلی نے قانون کی منطوری دے دی، پولیو ویکسیشن کا نادرا سے سرٹیفکیٹ لینا لازمی قرار دیدیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی نے پولیو کے خاتمے کیلئے سخت قوانین نافذ کرنے کی منظوری دے دی، پولیو ویکسین سے انکار پر پہلی بار 50 ہزار، دوسری بار ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، 10 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین کی تمام ڈوز پلانا لازمی قرار دیدیا گیا ہے ۔
والدین یا سرپرست کی جانب سے جان بوجھ کر ویکسین سے انکار پر سرٹیفکیٹ جاری نہیں ہوگا، نئے قانون کے تحت نادرا سے پولیو ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہو گا ، تعلیمی ادارے 10 سال سے کم عمر بچوں سے پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ طلب کریں گے۔
اسلام آباد کے لیے 5 سالہ قومی انسداد پولیو حکمت عملی مرتب کی جائے گی، پاکستان اب بھی وائلڈ پولیو وائرس سے متاثر دو ممالک میں شامل ہے، فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت خصوصی اقدامات کرے گی، خطرناک علاقوں میں پولیو ٹیموں کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔
پولیو ورکرز کو ڈرانے، دھمکانے یا حملہ کرنے پر 7 سال قید اور جرمانہ ہوگا، وفاقی حکومت فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے لیے خصوصی معاونتی فنڈ قائم کرے گی، پولیو سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات پر مبنی بل منظور کر لیا گیا۔
پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بعض سرکاری امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، پولیو ویکسینیشن سے متعلق مقدمات کی سماعت صرف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کریں گے۔
