بھارت میں 4 سال بعد پیٹرول اور ڈیزل 3 روپے فی لیٹر مہنگا، اپوزیشن کا مودی حکومت کے خلاف احتجاج

Petrol and diesel become more expensive by Rs 3 per liter in India after 4 years, opposition protests against Modi government

بھارت میں تقریباً چار سال بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں سیاسی ردعمل اور احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ نئے اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 97.77 بھارتی روپے جبکہ ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کے بعد اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ Narendra Modi حکومت نے انتخابی اخراجات پورے کرنے کیلئے عوام پر اضافی معاشی بوجھ ڈال دیا ہے۔

دیگر اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی کارکنوں نے بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

سوشل میڈیا پر بھی مودی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ملک میں تیل کا بحران موجود نہیں تھا تو انتخابات کے فوری بعد قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ Iran–United States conflict escalation، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگیا تھا۔ تاہم حکام نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ بھارت اس وقت کسی سنگین تیل بحران کا شکار ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں روس سے رعایتی خام تیل کی درآمد، مقامی ریفائنریز کی صلاحیت، نسبتاً مستحکم کرنسی اور ٹیکس پالیسی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے