اسلام آباد: ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کی ایک نئی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی تنازع کی صورت میں پاکستان ایشیا بحرالکاہل خطے میں سب سے زیادہ معاشی خطرات کا شکار ملک بن کر ابھرا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک کی کمزور بیرونی پوزیشن، توانائی کے لیے درآمدات پر شدید انحصار اور محدود مالیاتی وسائل آنے والے سالوں میں اسے شدید میکرو فنانشل دباؤ کا شکار کر سکتے ہیں۔
رپورٹ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مشکل اور چیلنجنگ منظرنامہ پیش کرتی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی تناؤ عالمی توانائی کی مارکیٹوں اور تجارتی راستوں کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو سست ہو کر 3.2 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے، اور ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ معاشی خطرات بدستور ’’شدید گراوٹ کی جانب مائل‘‘ ہیں۔
اس تمام تر تشویش کی اصل وجہ پاکستان کا خلیجی معیشتوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ ملک اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً تمام حصہ مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب یہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں برسرروزگار لاکھوں پاکستانی کارکنوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پر بھی شدید انحصار کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کسی بھی طویل مدتی تعطل یا کشیدگی کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں فوری اضافہ، بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں کمزوری، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روپے پر نئے سرے سے دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
